Alvida Alvida (From "Dar-E-Nijaat")

کوئی کسک ہے قسم سے
آنکھ نم ہے، غم سے
مل کے بھی جو نہ ملا
قصور ہوا کیا ہم سے

اے دل میرے یہ بتا
درد کوئی نہ چھپا
وہ ساتھ رہ کے بھی ہے جدا
باخدا

پیار مجھے نہ ملا
یار سے ہے یہ گلہ
کیسے تجھے کہہ دیں ہم
الوداع، الوداع

پیار مجھے نہ ملا
یار سے ہے یہ گلہ
کیسے تجھے کہہ دیں ہم
الوداع، الوداع

حرف آئے نہ محبت پہ
درد سہنے لگے
تیری چاہت میں دیوانا
لوگ کہنے لگے

عشق تو کرتا ہے من مرضی
سنتا نہیں پھر وہ عرضی
پیار میں نہ کر خود غرضی، بے وفا

چاہو جسے، ملتا نہیں
شکوہ کوئی کرنا نہیں
وہ ساتھ رہ کے بھی ہے جدا
باخدا

پیار مجھے نہ ملا
یار سے ہے یہ گلہ
کیسے تجھے کہہ دیں ہم
الوداع، الوداع

اپنے ہاتھوں سے تیرا نام
مٹا دیں کس طرح
تو نہیں تو پھر تیری یاد
بھلا دیں کس طرح

عشق محبت کہاں سے ہوئی
دل کا خسارہ میرا ہوا
اک طرفہ تھا پیار میرا، یہ بتا

میں نے کبھی سوچا نہ تھا
ٹوٹے گا دل ہر دفعہ
وہ ساتھ رہ کے بھی ہے جدا
باخدا، باخدا

ہجرِ محبت یارا
اس پہ یہ دل بیچارا
عشق ہے مرضِ لا دوا
اس کو بتا دے کوئی
آنکھیں یادوں میں کھوئی
اس پہ بھی فرض ہے وفا

ہجرِ محبت یارا
اس پہ یہ دل بیچارا
عشق ہے مرضِ لا دوا
اس کو بتا دے کوئی
آنکھیں یادوں میں کھوئی
اس پہ بھی فرض ہے وفا

ہم کو وصالِ یار نے
پاگل ہے کر دیا
مجھ میں ہے جو باقی
تیری یاد ہے پیا